سبق: اپنی مدد آپ
مصنف: سر سید احمد خان
صنفِ سخن: مضمون
سوال: مضمون "اپنی مدد آپ" کا مرکزی خیال لکھیے۔
جواب: مضمون کا مرکزی خیال یہ ہے کہ فرد اور قوم کی اصل ترقی اپنی محنت اور اپنی کوشش سے ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں کے سہارے سے۔ سر سید بتاتے ہیں کہ بیرونی مدد انسان کی غیرت اور خود اعتمادی کو کمزور کر دیتی ہے، جبکہ خود انحصاری اور اچھی عادات ہی قوم کی عزت، طاقت اور ترقی کی بنیاد بنتی ہیں۔ حقیقی کامیابی تب ہی ملتی ہے جب ہر انسان اپنی اخلاقی اور عملی زندگی کو بہتر بنائے۔
سوال:
مضمون "اپنی مدد آپ" کے مصنف سر سید احمد خان کے انداز بیان کی چند خصوصیات تحریر کیجیے۔
جواب:
1. مقصدیت اور اصلاحی انداز: سر سید احمد خان کے مضامین میں مقصدیت و اصلاحی انداز پایا جاتا ہے۔ ان کا اولین مقصد
قوم کی اصلاح اور بہتر تربیت پر زور دینا ہے۔
2. سادہ زبان و بیان: سر سید کی تحریرات سادگی اور سلاست پائی جاتی ہے۔ وہ آسان اور عام فہم زبان استعمال کرتے ہیں تاکہ ہر شخص سمجھ سکے۔
3. مدلل انداز: ان کے مضامین میں مدلل انداز پایا جاتا ہے۔
وہ اپنی بات کو مثالوں اور دلائل کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔
4. شگفتگی اور تازگی:
ان کی نثر میں ہلکی سی خوشگواری اور تازگی پائی جاتی ہے، جس سے مضمون دلچسپ رہتا ہے۔
مضمون "اپنی مدد آپ" میں سے چند ہی اہم تفہیمی سوالات اور جوابات:
سوال: سر سید کے مطابق قومی ترقی کی بنیاد شخصی محنت ہے۔ آپ اپنی زندگی سے کوئی ایسی مثال دیں جب آپ نے محسوس کیا کہ محنت کیے بغیر کسی بیرونی مدد پر بھروسہ کرنا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
نمونہ جواب:
سر سید کہتے ہیں کہ دوسروں پر بھروسہ انسان کی غیرت اور محنت دونوں کو کمزور کر دیتا ہے۔ اسی بات کا تجربہ مجھے تب ہوا جب میں نے امتحان کی تیاری میں دوستوں کے نوٹس پر بھروسہ کیا اور خود محنت نہ کی۔ نتیجے میں مجھے بہت کم نمبر ملے۔ تب میں نے سمجھا کہ جس طرح سر سید خود انحصاری پر زور دیتے ہیں، ویسے ہی کامیابی کے لیے اپنی محنت ضروری ہے۔
سوال : مضمون میں کہا گیا ہے کہ قومی انحطاط دراصل شخصی کمزوریوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اپنی زندگی سے ایسا مشاہدہ بیان کریں جس میں آپ نے دیکھا ہو کہ کسی فرد کی بری عادت نے اُس کے آس پاس کے ماحول پر منفی اثر ڈالا ہو۔
نمونہ جواب:
سر سید کے خیال کی روشنی میں میں نے دیکھا کہ ایک کلاس فیلو ہمیشہ غیر ذمہ داری دکھاتا تھا. کام وقت پر نہیں کرتا ، شور مچاتا اور دوسروں کو بھی پڑھنے نہیں دیتا تھا۔ آہستہ آہستہ کچھ اور لڑکے بھی اسی رویے کے عادی ہو گئے۔ میں نے محسوس کیا کہ جیسے سر سید کہتے ہیں، ویسے ہی ایک شخص کی غلطیاں پورے گروہ کی خرابی کا سبب بن سکتی ہیں۔
سوال:سر سید لکھتے ہیں کہ عملی تعلیم کتابی تعلیم سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ کیا آپ نے اپنی روزمرہ زندگی میں ایسا کوئی موقع دیکھا ہے جس میں کسی بزرگ، استاد یا والدین کے عملی رویے نے آپ کی تربیت پر کتابوں سے زیادہ اثر ڈالا ہو؟
نمونہ جواب:
بالکل، سر سید کے قول کی طرح میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ وہ ہمیشہ ایمانداری سے خرید و فروخت کرتے ہیں۔ اُن کی یہ عادت کتابوں میں پڑھی ہوئی ایمانداری کی تعریف سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔ میں نے سیکھا کہ جیسا سر سید کہتے ہیں، عملی مثالیں انسان کی زندگی بدلنے میں زیادہ طاقت رکھتی ہیں۔
سوال 1. سرسید کے نزدیک ’’اپنی مدد آپ‘‘ کا اصول کیوں اہم ہے؟
جواب: اس لیے کہ یہی اصول شخصی اور قومی ترقی کی بنیاد ہے اور قوم میں عزت و خود داری پیدا کرتا ہے۔
سوال 2. دوسروں پر بھروسہ کرنے سے انسان میں کون سی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں؟
جواب
اپنی مدد کرنے کا جوش کم ہو جاتا ہے غیرت و عزت گھٹتی ہے اور انسان دوسروں کا محتاج بن جاتا ہے۔
سوال 3. سرسید کے مطابق اچھی حکومت کا سب سے بڑا فائدہ کیا ہے؟
جواب: یہ کہ انسان آزادی سے اپنی صلاحیتیں ترقی دے سکتا ہے اور اپنی محنت کے نتائج کا اطمینان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
سوال 4. کوئی قانون کن کمزوریوں کو دور نہیں کر سکتا؟
جواب: سستی، فضول خرچی، شراب نوشی اور اخلاقی کمزوریاں، کیونکہ یہ صرف شخصی محنت اور اصلاح سے دور ہوتی ہیں۔
سوال 5. قومی ترقی کا حقیقی ذریعہ کیا ہے؟
جواب: عمدہ عادات، عمدہ اخلاق، شخصی ایمانداری، محنت اور اچھا چال چلن قومی ترقی کے حقیقی ذرائع ہیں۔
سوال 6. خراب رعایا پر حکومت سخت کیوں ہوتی ہے؟
جواب: کیونکہ رعایا کی جہالت اور بدچلنی ایسی ہوتی ہے کہ اس پر سخت نظام کے بغیر قابو نہیں پایا جا سکتا۔
سوال 7. سرسید کے نزدیک قوم کی تہذیب کس چیز کا مجموعہ ہے؟
جواب: افراد کی شخصی ترقی ان کے اخلاق، عادات اور چال چلن کا مجموعہ ہوتا ہے۔
سوال 8. بیرونی کوششوں سے اخلاقی برائیاں کیوں دور نہیں ہوتیں؟
جواب: کیونکہ یہ برائیاں اصل میں شخصی زندگی کی خرابیوں کا نتیجہ ہیں؛ بیرونی زور سے وقتی کمی تو ہو سکتی ہے مگر دیرپا اصلاح نہیں۔
سوال 9. سرسید کے مطابق حقیقی غلام کون ہے؟
جواب: وہ جو بد اخلاقی، خود غرضی، جہالت اور شرارت کا غلام ہو، خواہ ظاہری طور پر آزاد ہی کیوں نہ ہو۔
سوال : 10 ’’خضر‘‘ یا بیرونی مدد کا انتظار کرنا سرسید کے نزدیک کیوں غلط ہے؟
جواب: اس لیے کہ اس سے قوم کی دلی آزادی ختم ہو جاتی ہے اور لوگ اپنی ذمہ داری چھوڑ کر دوسروں کے محتاج بن جاتے ہیں۔
سوال11. سرسید عملی تعلیم کو کس طرح علمی تعلیم سے بہتر قرار دیتے ہیں؟
جواب: اس طرح کہ عملی تعلیم ہر جگہ انسان کے ساتھ رہتی ہے اور برتاؤ کے ذریعے دوسروں تک پہنچتی ہے؛ جبکہ کتابی علم اکثر طاقوں اور الماریوں تک محدود رہ جاتا ہے۔
سوال 12: مستقل آزادی، عزت اور ترقی کس چیز پر منحصر ہے؟
جواب: شخصی چال چلن کے عمدہ ہونے پر، کیونکہ یہی قومی مضبوطی اور اجتماعی ترقی کی اصل بنیاد ہے۔

No comments:
New comments are not allowed.