صوفی مکتبِ دانش

صوفی مکتبِ دانش ایک تعلیمی اردو ویب سائٹ ہے جہاں جماعت نہم اور جماعت دہم کے لیے اردو نثر، نظم اور قواعد کے مکمل، معیاری اور امتحان دوست نوٹس فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ تخلیقی تحریر، شعر و شاعری، غزل، نظم اور ادبی ذوق کی آبیاری کا باقاعدہ انتظام موجود ہے۔

Thursday, March 12, 2026

خاکہ دیکھ کر کہانی لکھنا



 عنوان: اپنوں کی فکر، اپنے سے بےخبر

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ چار دوست احمد، بلال، کامران اور دانش۔ اسکول کے بعد ایک کمرے میں بیٹھے رنگ برنگے بلاکس سے قلعے بنانے کا مقابلہ کر رہے تھے۔ کمرے میں جوش و خروش کا عجیب سماں تھا۔ ہر لڑکا پوری توجہ کے ساتھ اپنے قلعے کو خوبصورت اور مضبوط بنانے میں لگا ہوا تھا۔

احمد نہایت احتیاط سے بلاکس جوڑ رہا تھا، بلال مضبوط بنیاد بنانے میں مصروف تھا اور کامران اپنے قلعے کو سب سے اونچا بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر دانش کا حال کچھ مختلف تھا۔ وہ اپنے قلعے کی طرف کم اور دوسروں کے کام کی طرف زیادہ متوجہ تھا۔

جب احمد کوئی بلاک لگاتا تو دانش فوراً لپک کر کہتا،

"ارے بھائی! یہ بلاک یہاں نہیں، ذرا دائیں طرف لگاؤ، ورنہ قلعہ گر جائے گا!"

بلال کی طرف دیکھ کر وہ بولتا،

"دیکھو! تمہاری بنیاد کچھ کمزور لگ رہی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ 'اونٹ کے منہ میں زیرہ' ثابت ہو۔"

کامران کو بھی وہ بار بار مشورے دیتا،

"ذرا آہستہ! اگر یہ بلاک گر گیا تو ساری محنت ضائع ہو جائے گی!"

یوں لگتا تھا جیسے دانش سب کا استاد بن گیا ہو۔ وہ ایک سے دوسرے کے پاس دوڑتا پھرتا اور مشوروں کی بارش کرتا رہتا۔ ادھر وقت خاموشی سے گزرتا رہا۔

کچھ دیر بعد مقابلے کا وقت ختم ہونے کا اعلان ہوا۔ سب نے اپنے اپنے قلعے دیکھے۔ احمد کا قلعہ نہایت مضبوط اور خوبصورت تھا، بلال کی عمارت بلند اور شاندار تھی جبکہ کامران کا قلعہ سب سے اونچا اور دلکش نظر آ رہا تھا۔

مگر جب دانش نے اپنی طرف دیکھا تو اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اس کے سامنے چند بکھرے ہوئے بلاکس اور ایک آدھی ادھوری دیوار کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ دوسروں کو مشورے دیتا رہا اور خود کے لیے وقت ہی نہ نکال سکا۔ واقعی اس کے ساتھ "چراغ تلے اندھیرا" والا معاملہ ہو گیا تھا۔

اس کے دل میں افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ وہ آہستہ سے بولا،

"کاش میں نے دوسروں کو سمجھانے کے بجائے اپنے کام پر توجہ دی ہوتی… مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت!"

اس واقعے نے دانش کو ایک بڑا سبق سکھایا۔ اسے احساس ہوا کہ دوسروں کی مدد کرنا اچھی بات ہے، لیکن اگر انسان اپنی ذمہ داریوں کو بھول جائے تو آخرکار نقصان اسی کا ہوتا ہے۔

سبق:

دوسروں کی خیر خواہی ضرور کریں، مگر اپنی محنت اور مقصد کو کبھی نظر انداز نہ کریں۔


کہانی کا ایک اور نمونہ

ایک دن اسکول میں سالانہ امتحانات قریب آ رہے تھے۔ ہماری جماعت کے بیشتر طلبہ بڑی محنت سے تیاری کر رہے تھے۔ انہی دنوں میرے تین دوست احمد، بلال اور کامران اپنی پڑھائی میں پوری توجہ لگا رہے تھے، مگر چوتھا دوست دانش کچھ مختلف انداز رکھتا تھا۔

دانش نہایت ملنسار اور ہمدرد لڑکا تھا۔ اسے دوسروں کی مدد کرنے میں بہت خوشی محسوس ہوتی تھی۔ جب احمد کسی مشکل سوال میں الجھ جاتا تو دانش فوراً اس کے پاس پہنچ جاتا اور بڑی تفصیل سے اسے سمجھانے لگتا۔ بلال کو بھی اگر کسی مضمون میں دشواری پیش آتی تو دانش فوراً اس کی رہنمائی کرتا۔ کامران کو بھی وہ بار بار مشورے دیتا کہ کس طرح نوٹس تیار کرنے چاہئیں اور امتحان کی تیاری کیسے بہتر ہو سکتی ہے۔

یوں لگتا تھا جیسے دانش پوری جماعت کا استاد بن گیا ہو۔ وہ دوسروں کو سمجھانے اور رہنمائی کرنے میں اس قدر مصروف رہتا کہ اسے اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دینے کا موقع ہی نہ ملتا۔ اس کے دوست اس کی مدد سے فائدہ اٹھاتے رہے اور اپنی تیاری مکمل کرتے گئے۔

وقت گزرتا گیا اور امتحانات کا دن آ پہنچا۔ احمد، بلال اور کامران اعتماد کے ساتھ امتحان دینے بیٹھے کیونکہ انہوں نے بھرپور تیاری کی ہوئی تھی۔ دوسری طرف دانش جب سوالیہ پرچہ دیکھنے لگا تو اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہو گئے۔ بہت سے سوالات ایسے تھے جن کی اسے مکمل تیاری نہیں تھی۔

امتحان کے بعد جب نتائج کا اعلان ہوا تو احمد، بلال اور کامران نے بہت اچھے نمبر حاصل کیے۔ مگر دانش کے نمبر توقع سے کہیں کم تھے۔ اس وقت اسے شدت سے احساس ہوا کہ وہ دوسروں کی فکر میں اس قدر مصروف رہا کہ اپنی ذمہ داری کو نظر انداز کر بیٹھا۔ واقعی اس کے ساتھ "چراغ تلے اندھیرا" والا معاملہ پیش آ گیا تھا۔

یہ واقعہ ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا یقیناً ایک اچھی صفت ہے، لیکن انسان کو اپنی ذمہ داریوں اور اپنے مقصد کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔ اگر انسان ہمیشہ دوسروں کے کام میں مگن رہے اور اپنے کام کو نظر انداز کر دے تو آخرکار نقصان اسی کا ہوتا ہے۔

Saturday, March 7, 2026

کہانی اکلوتے موبائل فون کی آپ بیتی

کہانی : اکلوتے موبائل فون کی آپ بیتی 



میں، ایک اکلوتا موبائل فون، جب پہلی بار گھر آیا تو سب کی نظروں کا مرکز بن گیا۔ ایک دم مجھے لگا کہ جیسے میں کوئی "سیلیبرٹی" ہوں۔ سب میری طرف ایسے دیکھتے جیسے میں کوئی قیمتی خزانہ ہوں۔ بس وہ دن اور آج کا دن، میں گھر کے ہر فرد کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکا ہوں۔

صبح میری کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ سبھی اپنے اپنے کام کا بہانہ بنا کر مجھے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امی کہتی ہیں، "بیٹا، ذرا موبائل دینا۔ مجھے گروسری لسٹ دیکھنی ہے۔" جیسے ہی وہ واٹس ایپ کھولتی ہیں، انہیں فوراً ہی "فیملی گروپ" کی پوسٹس دیکھنے کا خیال آ جاتا ہے، اور پھر تو یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ گروسری کی لسٹ کہیں پیچھے رہ جاتی ہے، اور میری بیٹری، واٹس ایپ میسجز کے بوجھ تلے دبی رہتی ہے۔

ابھی میں امی کے ہاتھ سے نکلا ہی ہوتا ہوں کہ ابا جی آ کر پکڑ لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے، "ذرا خبروں کی ہیڈلائنز چیک کرنی ہیں۔" لیکن پھر یوٹیوب پر کچھ "اہم" ویڈیوز دیکھنے لگتے ہیں۔ ان ویڈیوز کو دیکھتے دیکھتے جب وہ "طنز و مزاح" کی ویڈیوز پر پہنچ جاتے ہیں تو مجھے بھی شک ہونے لگتا ہے کہ شاید خبروں کا بہانہ تو صرف موبائل پکڑنے کے لئے تھا!

جب شام میں بچے میری طرف آتے ہیں تو میری بیٹری ختم ہونے کے قریب ہوتی ہے۔ بچوں کے ہاتھ میں آتے ہی مجھے لگتا ہے کہ میرے اوپر بجلی کا کرنٹ لگایا گیا ہے! موبائل گیمز کا آغاز ہوتا ہے اور میرے دماغی پروسیسر کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ گویا کہ میری سانسیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں میرا وجود اس قدر محصور ہو جاتا ہے کہ میں چارجنگ کی درخواست کرنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔

بس رات ہوتے ہی میری کچھ "چُھٹکارا" کی امید جاگتی ہے کہ شاید میں کچھ دیر سکون سے رہ سکوں گا۔ مگر اس وقت ابو کو یاد آتا ہے کہ "گھڑی میں الارم سیٹ" کرنا ہے، اور امی کو "رات کی دعا" سننی ہے۔

یوں میں، ایک اکلوتا موبائل فون، ہر دن اس گھریلو جنگ کا حصہ بن کر صبح سے رات تک تھک جاتا ہوں۔ میری 

خواہش ہے کہ مجھے بھی کبھی چھٹی ملے، لیکن لگتا ہے اس گھر میں میرے نصیب میں بس یہی غلامی ہے!


کہانی : وقت کا پہیہ

عنوان کہانی : وقت کا پہیہ



ایک دفعہ کا ذکر ہے کراچی کے علاقے کینٹ میں ایک شخص رہتا تھا۔ اس کا نام علی تھا۔ وہ ایک دفتر میں کام کرتا تھا۔ علی کی شادی کے دو سال بعد اس کے گھر میں خوشیوں کا سماں تھا۔ اس کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی۔ میاں بیوی دونوں اللہ کے اس انعام پر بے حد خوش تھے۔

 علی دن رات ننھے حسان کے گرد گھومتا اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا۔ جب حسان نے پہلا قدم اٹھایا تو علی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ وقت گزرتا گیا، اور وہ دن بھی آیا جب حسان نے علی کو "ابو" کہہ کر پکارا۔ علی کے لیے یہ دنیا کی سب سے خوبصورت آواز تھی۔

علی کا معمول تھا کہ وہ شام کو حسان کو کھانا کھلاتا۔ کبھی حسان ضد کرتا، تو کبھی ہنستے ہوئے کھانے کے بہانے بناتا۔ علی بڑی محبت سے چمچ پکڑ کر اسے کھلاتا اور کہتا، "ایک نوالہ ابو کے لیے!"

سال گزرتے گئے، اور حسان جوان ہو گیا۔ علی کے چہرے پر بڑھاپے کی جھریاں نمودار ہونے لگیں، لیکن وہ ہمیشہ اپنے بیٹے کے لیے دعاگو رہتا۔ اب علی کے ہاتھ کانپنے لگے تھے، اور چلنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ ایک دن حسان نے علی کے ہاتھ سے چمچ لیتے ہوئے کہا، "ابو، اب میں آپ کو کھلاؤں گا، جیسے آپ نے بچپن میں مجھے کھلایا تھا۔"

حسان نے علی کو اسی محبت اور خیال سے کھانا کھلایا جیسے علی نے اسے بچپن میں کھلایا تھا۔ علی کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن یہ آنسو خوشی کے تھے کہ اس کا بیٹا اس کے بڑھاپے میں اس کا سہارا بن گیا تھا۔

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کا پہیہ گھومتا ہے۔ والدین ہمیں بچپن میں سنبھالتے ہیں، اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے والد بن کر بڑھاپے میں ان کی خدمت کریں۔ کیونکہ وقت ہمیں وہی لوٹاتا ہے جو ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں۔


نوٹس پڑھنے والوں کی تعداد

Followers

Search This Blog

حصہ نظم جماعت نہم

حصہ غزل جماعت دہم

Search

Search results

جملہ حقوق بحق ایڈمن محفوظ ہیں۔. Powered by Blogger.

تصاویر برائے اردو تخلیقی تحریر

فیچر پوسٹ

نمونہ تبصرہ نگاری بعنوان جشنِ آزادی منانے کے تقاضے

سوال: فیصل آباد میں جشن آزادی کے موقع پر ون ویلنگ اور سائیلنسر نکال کر موٹر سائیکل چلانے پر 800 سے زائد موٹر سائیکل بند ، جب کہ 50 موٹر سائی...