صوفی مکتبِ دانش

صوفی مکتبِ دانش ایک تعلیمی اردو ویب سائٹ ہے جہاں جماعت نہم اور جماعت دہم کے لیے اردو نثر، نظم اور قواعد کے مکمل، معیاری اور امتحان دوست نوٹس فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ تخلیقی تحریر، شعر و شاعری، غزل، نظم اور ادبی ذوق کی آبیاری کا باقاعدہ انتظام موجود ہے۔

نظم: جاوید کے نام جماعت نہم

  نظم:  جاوید کے نام

شاعر کا نام: علامہ محمد اقبال

صنفِ نظم بلحاظ موضوع: نصیحت آموز،اصلاحی نظم

صنفِ نظم بلحاظ ساخت:  پابند نظم

سوالنظم "جاوید کے نامکا مرکزی خیال لکھیے۔

جوابنظم "جاوید کے نامکا مرکزی خیال یہ ہے کہ علامہ محمد اقبال کی اپنے بیٹے کو نصیحت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ خودی کو قائم رکھتے ہوئے مسلسل جدوجہد اور ترقی کرے۔ اس نظم میں وہ "عشقاور "فقیریکے راستے کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مادی دنیا کی چمک دمک کے بجائے روحانی اور اخلاقی اقدار کو ترجیح دینی چاہیے۔

 

سوال:  علامہ اقبال کے  اندازِ کلام کی وہ خصوصیات تحریر کیجیے جو انھیں دیگر شعراء سے ممتاز کرتی ہیں۔

جوابمقصدیت اور اصلاحی پیغاماقبال کی شاعری  میں مقصدیت کا عنصر نمایاں ہے۔ ان کا بنیادی مقصد مسلمانانِ ہند میں بیداری، خودی کا شعور اور اسلام تربیت کا پیغام دینا ہے۔

 فکری بلندی اور فلسفیانہ انداز: اقبال کی شاعری میں صوفیانہ اور فلسفیانہ رنگ  نمایاں ہے۔ان کے کلام میں گہرے فکری نکات، فلسفیانہ تصورات اور بلند خیالات پائے جاتے ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

جذبۂ خودی اور عمل پر زور: اقبال نے خودی کو بیدار کرنے، عمل، حوصلہ اور استقلال کو اپنا مرکزی موضوع بنایا۔ان کے اشعار میں خطابت، ولولہ، جوش اور تحریک پیدا کرنے کی بھرپور قوت موجود ہے۔

قومی شاعری اور آفاقی نظریات: اقبال  ایک قومی شاعر تھے۔ ان کا پیغام کسی ایک قبیلے، گروہ یا خطے تک محدود نہیں، بلکہ انسانیت، آزادی، اور روحانی بلندی کے آفاقی نظریات پر مبنی ہے۔

 

سوالاس نظم میں اقبال نے اپنے بیٹے جاوید اقبال اور دیگر مسلم نوجوانوں کو کون کون سی نصائح کی ہیں؟ کسی ایک کو بیان کریں۔

جوابعلامہ اقبال نے اپنی اس نظم میں اپنے نوجوانوں کو درج ذیل نصائح کی ہیں:

1:خود کی پہچان اور جدوجہدنظم کا اہم پہلو یہ ہے کہ اپنے آپ کو پہچاننا اور مسلسل محنت کرتے رہنا ضروری ہے۔

2:عشق اور فکر:  علامہ اقبال "عشقکے میدان میں اپنا مقام بنانے اور نئی نسل پیدا کرنے کا درس دیتے ہیں، جس کا مطلب ایمان اور یقین کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

3:دنیاوی آسائشوں سے اجتناب:  وہ اپنے بیٹے کو دولت کے پیچھے بھاگنے کی بجائے "فقیریکے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں، تاکہ وہ اپنی خودی کو کھو نہ دے۔

نظم کی مختصر تشریح لکھیے۔

شعر نمبر 1:

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

تشریح: شاعر نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ عشقِ حقیقی (اللہ اور اعلیٰ مقاصد سے محبتکے میدان میں اپنی پہچان اور اعلیٰ مقام خود پیدا کرو۔ دوسروں کی تقلید میں وقت گزارنے کے بجائے نئے دور اور نئے زمانے کی بنیاد رکھو۔ دنیا میں جدت اور قیادت انہی کو ملتی ہے جو خود کچھ نیا لاتے ہیں۔

اس شعر میں علم البیان کی اصطلاح    صنعت تضاد ہے۔ حوالہ صبح و شام۔۔۔۔  متضاد الفاظ ہیں۔

 استعارہ: حوالہ:  دیارِ عشق۔۔۔۔۔۔۔۔عشق کا میدان مراد روحانی دنیا۔

شعر نمبر 2:

خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر

تشریح: اگر اللہ تعالیٰ تمہیں ایک ایسا دل عطا کرے جو فطرت کو سمجھنے والا ہو، تو پھر تم پھولوں اور قدرت کی خاموشی میں بھی معنی تلاش کر کے بات کرنے کی صلاحیت پیدا کرو۔ یعنی اپنی سوچ اور بصیرت کو اتنا بیدار کرو کہ تمہیں قدرت کی ہر چیز میں کوئی پیغام نظر آئے اور تم اس سے علم و حکمت اخذ کر سکو۔

اس شعر میں علم البیان کی اصطلاح    استعارہ ہے۔ حوالہ سکوتِ لالہ و گل۔۔۔۔  مراد فطرت کی خاموشی۔

شعر نمبر 3:

اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر

تشریح: شاعر مغربی تہذیب کی اندھی تقلید سے منع کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یورپ (فرنگ)     کے بنانے والے پیالوں اور جاموں پر احسان مند نہ بنو، بلکہ اپنی سرزمین اور اپنی

  مٹی سے اپنی تہذیب و ثقافت کے مطابق نئے پیالے اور جام خود بناؤ۔ مطلب یہ کہ دوسروں پر انحصار چھوڑ کر اپنی محنت سے ترقی

 کرو اور اپنی تہذیبی شناخت کو زندہ رکھو۔

اس شعر میں علم البیان کی اصطلاح    استعارہ ہے۔ حوالہ مینا و جام ۔۔۔۔  مراد  کارنامے۔

شعر نمبر 4:

میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر مرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر

تشریح: شاعر خود کو انگور کی شاخ سے تشبیہ دیتے ہیں اور اپنی شاعری کو اپنا پھل قرار دیتے ہیں۔ وہ نوجوانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ ان کے

 کلام   سے ایسی سرشاری، ولولہ اور زندگی پیدا کرو جیسے انگور سے سرخ شراب تیار ہوتی ہے۔ یعنی میری شاعری سے نئی نسل کو قوتِ عمل

 اور جوش و جذبہ حاصل کرنا چاہیے۔

اس شعر میں علم البیان کی اصطلاح    استعارہ ہے۔ حوالہ شاخِ تاک۔۔۔۔انگور کی بیل کی  ٹہنی ۔۔۔ مراد شاعر خود اور ۔۔۔  ثمر۔۔۔ پھل مراد اقبال کی شاعری۔

شعر نمبر 5:

مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر

تشریح: اقبال اپنے نظریے کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا راستہ دولت و عیش کا نہیں بلکہ سادگی اور روحانی بلندی کا ہے۔

وہ نصیحت کرتے ہیں کہ اپنی خودی (عزتِ نفس، شخصیت و اصول کو دولت کے عوض مت بیچو۔ اگرچہ تم غریب ہو، مگر اپنی خودداری،

 ایمان اور کردار کے ذریعے دنیا میں نام پیدا کرو۔

اس شعر میں علم البیان کی اصطلاح    صنعت تضاد ہے۔ حوالہ امیری۔۔۔ غریبی،  متضاد الفاظ ہیں۔

No comments:

نوٹس پڑھنے والوں کی تعداد

Followers

Search This Blog

حصہ نظم جماعت نہم

حصہ غزل جماعت دہم

Search

Search results

جملہ حقوق بحق ایڈمن محفوظ ہیں۔. Powered by Blogger.

تصاویر برائے اردو تخلیقی تحریر

فیچر پوسٹ

نمونہ تبصرہ نگاری بعنوان جشنِ آزادی منانے کے تقاضے

سوال: فیصل آباد میں جشن آزادی کے موقع پر ون ویلنگ اور سائیلنسر نکال کر موٹر سائیکل چلانے پر 800 سے زائد موٹر سائیکل بند ، جب کہ 50 موٹر سائی...