صوفی مکتبِ دانش

صوفی مکتبِ دانش ایک تعلیمی اردو ویب سائٹ ہے جہاں جماعت نہم اور جماعت دہم کے لیے اردو نثر، نظم اور قواعد کے مکمل، معیاری اور امتحان دوست نوٹس فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ تخلیقی تحریر، شعر و شاعری، غزل، نظم اور ادبی ذوق کی آبیاری کا باقاعدہ انتظام موجود ہے۔

سبق: آرام و سکون

 سبق: آرام و سکون

اُردو ڈراما آرام و سکون



مصنف:       سید امتیاز علی تاج

صنفِ سُخن/ادب: ڈراما

ماخذ: امتیاز علی تاج کے یک بابی ڈرامے

 ڈراما آرام و سکون  کامرکزی خیال:

ڈراما "آرام و سکون" از سید امتیاز علی تاج کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مریض کے لیے سکون سب سے بڑی دوا ہے، مگر گھریلو شور و غل

اور بدنظمی اسے حاصل نہیں ہونے دیتے۔ نتیجتاً مریض گھر کے بجائے دفتر کو سکون کی جگہ سمجھنے لگتا ہے۔

صنفِ سخن/ادب *ڈراما* کی تعریف :

ڈراما ایک ایسی صنفِ سخن ہے جس میں زندگی کے واقعات کو کرداروں کے مکالموں اور عمل کے ذریعے اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ ناظر یا قاری کے سامنے جیتی جاگتی تصویر بن جائے۔ اس میں کہانی براہِ راست مکالمے اور منظر نگاری کے ذریعے آگے بڑھتی ہے۔ 

 مصنف سید امتیاز علی تاج کے اندازِ بیان کی چند اہم خصوصیات :

طنز و مزاح: ان کی تحریرات میں طنزو مزاح کا عنصر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے اپنی تحریرات میں  گھریلو حالات کو مزاحیہ اور دلچسپ پیرائے میں پیش کیا ہے۔

کردار نگاری/حقیقت نگاری: کردار نگاری میں انھیں کمال حاصل تھا۔ کرداروں اور ماحول کو بالکل روزمرہ زندگی کے قریب دکھایا ہے۔

مکالماتی روانی: ان کی تحریرات میں مکالماتی انداز پایا جاتا ہے۔جملے سادہ اور براہِ راست  ہیں۔ جس کی وجہ سے ڈراما دلچسپ اور مؤثر بن گیا ہے۔

سماجی تنقید )ماحول کی عکاسی( :ا نھوں نے نہایت خوبصورت انداز میں ہمارے ماحول پر تنقید کی ہے۔ جیسا کہ ڈراما  آرام و سکون  میں شور و غل اور بدنظمی کے خلاف تنقیدی پہلو نمایاں ہے۔

 مصنف سید امتیاز علی تاج کا مختصر تعارف :

نام: سید امتیاز علی تاج جائے پیدائش: لاہور (13 اکتوبر 1900ء) وجہ شہرت: اردو کے نامور ڈراما نگار؛ مشہور ڈراما "انارکلی" ان کی وجہ شہرت ہے۔ اردو ڈرامے کو ادبی وقار بخشا۔ اخبارات و رسائل کی ادارت کی۔ ادبی اداروں اور انجمنوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

جائے وفات: لاہور تاریخ وفات: 19 اپریل 1970ء

سبق کے چند اہم تفہیمی سوالات و جوابات 

1. ڈاکٹر نے سکون کو دوا سے زیادہ ضروری کیوں قرار دیا؟

جواب: کیونکہ بیماری ذہنی اور اعصابی تھکن کی وجہ سے تھی۔

2. بیوی کی مسلسل باتیں میاں کے لیے کس طرح نقصان دہ ثابت ہو رہی تھیں؟

جواب: وہ شور اور ذہنی دباؤ میں اضافہ کر رہی تھیں۔

3. بچے کی پٹ پٹ گاڑی کا ذکر کس رویے کی نشاندہی کرتا ہے؟

جواب: کہ بچوں کو والدین کی بیماری کا احساس کم ہوتا ہے۔

4. ڈرامے میں ملازم للو کس چیز کی علامت ہے؟

جواب: گھریلو بدنظمی اور چھوٹی غفلتوں کی۔

5. میاں کا بار بار "ہوں" کہنا کس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے؟

جواب: تھکن، لاچاری اور برداشت کی انتہا کو۔

6. بیوی کا خود شور کرنا کس طنزیہ پہلو کو اجاگر کرتا ہے؟

جواب: کہ لوگ نصیحت تو کرتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔

7. شور کی بار بار موجودگی کا فنی مقصد کیا تھا؟

جواب: سکون کی اہمیت کو زیادہ نمایاں کرنا۔

8. بیوی کی فکرمندی کے باوجود میاں کو سکون کیوں نہ ملا؟

جواب: کیونکہ فکر اور شور دونوں ساتھ موجود تھے۔

9. ہمسائے کے گانے کا ذکر کس چیز کو ظاہر کرتا ہے؟

جواب: بیرونی شور بھی مریض کے لیے نقصان دہ ہے۔

10. میاں نے دفتر جانے کا فیصلہ کیوں کیا؟

جواب: گھر کے شور سے تنگ آ کر دفتر میں سکون تلاش کرنے کے لیے۔

11. ڈرامے کے عنوان "آرام و سکون" میں طنزیہ پہلو کیا ہے؟

جواب: عنوان سکون کی بات کرتا ہے، مگر ڈرامے میں سکون کہیں نہیں۔

12. ڈاکٹر کی ہدایات اور گھر کی عملی صورتِ حال میں کیا تضاد تھا؟

جواب: ڈاکٹر نے سکون کہا مگر گھر میں شور ہی شور رہا۔

13. بیوی کے رویے سے عورتوں کی کون سی کمزوری ظاہر ہوتی ہے؟

جواب: کہ وہ چھوٹی بات کو بھی بڑھا دیتی ہیں اور گھبرا جاتی ہیں۔

14. طنز و مزاح ڈرامے میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟

جواب: سنجیدہ پیغام کو دلچسپ اور مؤثر بنا دیتا ہے۔

15. ڈرامے کے اختتام سے کیا سبق ملتا ہے؟

جواب: کہ حقیقی سکون شور و بدنظمی سے بچ کر سادگی میں ہے۔

سوال: ڈرامے میں میاں کو سکون چاہیے تھا مگر شور و غل نے انھیں بے حال کر دیا۔ اپنی زندگی سے ایسی مثال دیجیے جب آپ کو سکون

درکار تھا مگر حالات نے اجازت نہ دی۔

نمونے کے مختصر جوابات

1. پچھلے سال کی بات ہے میرے بورڈ کے امتحانات سر پر تھے۔ جب میں اردو کے پرچے کی تیاری کرنے لگا تو  اس وقت محلے کے شور سے پڑھائی مشکل ہو گئی۔

2. ایک مرتبہ مجھے تیز بخار ہو گیا۔ میں نے دوا لینے کے بعد سونے کا ارادہ مگر گھر آئے مہمان بچوں کے کھیلنے اور شور وغل سے میں آرام نہ کر سکا۔

3. میرا گھر محلے کی جامعہ مسجد کے قریب ہے۔ اس لیے اکثر اوقات وہاں ہونے والی مجالس یا اجتماعات میں لاؤڈ اسپیکر کی بلند آواز سے آرام نہیں مل پاتا۔

No comments:

نوٹس پڑھنے والوں کی تعداد

Followers

Search This Blog

حصہ نظم جماعت نہم

حصہ غزل جماعت دہم

Search

Search results

جملہ حقوق بحق ایڈمن محفوظ ہیں۔. Powered by Blogger.

تصاویر برائے اردو تخلیقی تحریر

فیچر پوسٹ

نمونہ تبصرہ نگاری بعنوان جشنِ آزادی منانے کے تقاضے

سوال: فیصل آباد میں جشن آزادی کے موقع پر ون ویلنگ اور سائیلنسر نکال کر موٹر سائیکل چلانے پر 800 سے زائد موٹر سائیکل بند ، جب کہ 50 موٹر سائی...