غزل: سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
شاعر: خواجہ حیدر علی آتش
سوال: خواجہ حیدر علی آتشؔ کے اندازِ بیان کی چند خصوصیات تحریر کیجیے ۔ یا انھیں لکھنو کے دبستانِ شاعری کا نمائندہ کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب:
آتشؔ کو دبستان ِ لکھنو کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔خالص اور صاف طرزِ بیان کے شاعر تھے۔ انکا ایک مخصوص انفرادی رنگ ہے۔ انھیں لکھنو کے دبستانِ شاعری کا نمائندہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ
بلند خیالی اور تحرک: آتشؔ کے کلام میں بلند خیالی اور مضامین کا تنوع پایا جاتا ہے۔ انکا کلام بہت جامع ہے۔ انکی غزلیات میں تہہ دار معانی والے الفاظ کثرت سے ملتے ہیں۔ انکے کلام میں بے قراری ، اضطراب، اور تڑپ پائی جاتی ہے۔ یہ سب چیزیں زندگی کی علامت ہیں۔
تصوف: انکی شاعری بنیادی طور پر لکھنو شعرا ء کی رنگین مزاجیوں سے مختلف ہے۔ درویشی اور قلندری انکی فطرت میں شامل تھی۔ اسلیے انکی شاعری میں صوفیانہ رنگ نمایاں ہے۔
لفظی صنعت گری: انھوں نے اپنے کلام میں تشبیہات اور استعارات کا استعمال کیا ہے ۔لیکن انکا کمال یہ ہے کہ انھوں نے لفظی صنعت گری کے باوجود شعر کے حُسن اور تاثیر کو بدستور قائم رکھا ہے
سوال : غزل کی مختصر تشریح کیجیے۔
جواب:
سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا
تشریح :
اےمحبوب! یا اے انسان! ذرا غور سےسن، دنیا میں تیرا چرچا کتنا مشہور ہے۔ لوگ تیرے نہ ہوتے ہوئے بھی، یعنی غائبانہ طور پر، تیرا تذکرہ کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ
نیک نامی اور شہرت کردار سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ محض ظاہری موجودگی سے۔
علمُ البیان کی اقسام: استعارہ: "فسانہ" شہرت و تذکرہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔
مجاز مرسل: "خلقِ خدا" سے مراد عوام / لوگ لیا گیا ہے۔
مراعات النظیر: "جہاں، خلقِ خدا، فسانہ" سب شہرت اور دنیا سے متعلق الفاظ۔
زیرِ زمیں سے آتا ہے جو گُل سُو زر بہ کف
قارون نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا
تشریح :
شاعر قدرت کے کرشموں کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ زمین سے ایسے پھول اگتے ہیں جو اپنے ساتھ خوشبو کی صورت اور پھلوں کی صورت میں قیمتی خزانے لیے ہوئے آتے ہیں۔ یعنی زمین سے خزانے اور نایاب چیزیں نکلتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ایسے لگتا ہے جیسے قارون نے اپنا خزانہ راستے میں لٹا دیا ہو، مطلب یہ کہ دنیا کی دولت بھی آخرکار زمین میں ہی رہ جاتی ہے، انسان کے کام نہیں آتی۔
علمُ البیان:
تلمیح: "قارون" قرآن و تاریخ کا مشہور واقعہ۔
استعارہ: "گُل سُو زر بہ کف" قیمتی خزانے کے لیے۔
تشبیہ: پھول کا ہاتھ میں شراب لینا نایاب اور قیمتی چیز کی مثال۔
مراعات النظیر: "زیرِ زمیں، گُل، ، خزانہ" قیمتی و مادی اشیاء کا تعلق۔
حسنِ تعلیل: زمین سے قیمتی چیز نکلنے کو خوبصورت اور معنی خیز طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔
چاروں طرف سے صورتِ جاناں ہو جلوہ گر
دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا
تشریح :
اگر تیرا دل صاف اور شفاف ہے تو ہر طرف تجھے محبوب کا جلوہ نظر آئے گا۔ یعنی پاک دل والے کے لیے کائنات کا ہر منظر محبوب کی نشانیوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔
علمُ البیان کی اقسام تشبیہ: "دل" کو "آئینہ خانہ" سے تشبیہ دی گئی ہے, صاف دل عکس دکھانے والا آئینہ۔
استعارہ: "صورتِ جاناں" سے مراد محبوبِ حقیقی / حسنِ ازلی ہے۔:
آتی ہے کس طرح سے مری قبضِ روح کو
دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا
تشریح :
شاعر کہتا ہے کہ میری جان نکالنے کے لیے موت کس طرح آ رہی ہے؟ ایسا لگتا ہے جیسے موت بہانہ ڈھونڈ رہی ہو۔ مطلب یہ کہ موت اچانک بھی آ سکتی ہے، انسان کو ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔
علم البیان کی اقسام: استعارہ: "قبضِ روح" سے مراد موت کا عمل۔
طبل و عَلَم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا
تشریح:
ہمارے پاس نہ دولت ہے، نہ زمین، بس طبل اور عَلَم ہے یعنی حوصلہ، مقصد اور غیرت ہے اس لیے ہمیں کسی چیز کا ڈر خوف نہیں ہے۔ جب ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں تو زمانہ ہمارا کیا بگاڑے گا؟
علمُ البیان:
مجاز مرسل: "طبل و عَلَم" مقصد، عزم اور غیرت۔
مراعات النظیر: طبل، عَلَم، ملک، مال جنگ و دنیاوی طاقت سے متعلق۔
شعر نمبر 6:
یوں مدّعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے
آتشؔ غزل یہ تُو نے کہی عاشقانہ کیا
تشریح :
اگر مدعی یعنی منصف یا ناقد انصاف کے ساتھ داد نہیں دیتا تو کوئی بات نہیں۔ اے آتشؔ! تیری غزل تو عاشقانہ ہے، اس کا مقصد دنیاوی داد نہیں بلکہ عشق کا اظہار ہے۔ دنیا والے تو کسی کو خوش دیکھ کر حسد کرتے رہتے ہیں۔ شاعر کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
علمُ البیان:
استعارہ: "آتشؔ غزل" شاعر کا نام اور ساتھ ہی غزل کی گرم جوشی کا استعارہ۔
تضاد: "داد دینا" بمقابلہ "نہ دینا"۔

No comments:
New comments are not allowed.