چاند کی آپ بیتی
میرا حسب نسب بڑا سادہ ہے۔ میں آسمان کے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرا قریبی رشتہ سورج سے ہے، مگر روشنی
میری اپنی نہیں۔ ا پنے بچپن یعنی اس کائنات کے آغاز سےمیں میں نے یہی سیکھا کہ جو روشنی ملے، اسے سنبھال کر بانٹ دیا جائے۔ نہ شور، نہ دعویٰ، نہ چمک کا غرور، بس
خاموش گردش اور مقررہ وقت پر حاضری۔
میری پرورش خلا کی تنہائی میں ہوئی، اسی لیے میں کم گو ہوں، مگر زمین والوں نے مجھے باتوں، تشبیہوں اور کہانیوں میں حد درجہ بولنے والا بنا دیا ہے۔
میں چاند ہوں… وہی جسے دیکھ کر ممی پاپا اپنے ننھے بچوں کو گود میں اٹھا کر کہتے ہیں:
“وہ دیکھو! چندا ماموں نکل آئے!”
اور بچہ مجھے یوں تکتا ہے جیسے میں واقعی کوئی سفید داڑھی والا ماموں ہوں جو لپک کر اسے گود میں اٹھا لوں گا یا چاکلیٹ پکڑا دوں گا۔
سچ کہوں تو زمین پر میرا سب سے مضبوط رشتہ بچوں سے ہے، باقی سب تو بس مجھے الفاظ میں استعمال کرتے ہیں۔
میری اصل ملازمت نانی دادیوں کے پاس ہے۔ وہ جب لوریاں چھیڑتی ہیں تو میں چاند کا ٹکڑا بن جاتا ہوں، کبھی چاند چہرہ،
کبھی کوہِ قاف کی کہانیوں میں پریوں کا چراغ۔ میں نے نہ کبھی پری دیکھی، نہ کوہِ قاف گیا، مگر نانی کی کہانیوں میں میری سیاحت مفت اور مستقل ہے۔
بچے سو جاتے ہیں، اور میں سوچتا رہ جاتا ہوں کہ کاش مجھے بھی اتنی حسین شخصیت واقعی مل جاتی جتنی مجھے کہانیوں میں
عطا کر دی گئی ہے۔
زمین والوں نے مجھ پر حسن کا بہت بڑا بوجھ ڈال رکھا ہے۔ محبوب کی تعریف کرنی ہو تو کہتے ہیں:
“چاند کا ٹکڑا ہے!”
یا یہ کہ:
“جیسے چاند زمین پر اتر آیا ہو!”
چہرہ پسند آ جائے تو نام رکھ دیا جاتا ہے:
“چاند سا مکھڑا!”
حالانکہ اگر کوئی ذرا قریب آ کر حقیقت دیکھ لے تو کہے:
“یہ تو دھبوں بھرا، خاموش سا گول وجود ہے!”
مگر نہیں، سچائی حسن کے مبالغے میں اکثر ہار جاتی ہے۔
گلوکار اور شاعر تو مجھ سے حد درجہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کوئی مجھے حسن کی علامت بناتا ہے، کوئی محبوب کے رخساروں سے
ملا دیتا ہے۔ بھلا کوئی یہ بھی پوچھے کہ میں نے خود کب دعویٰ کیا تھا کہ میں اتنا حسین ہوں؟
میں تو بس خاموشی سے سورج سے روشنی ادھار لے کر بانٹ دیتا ہوں، باقی تشریح تم لوگوں نے خود گھڑ لی ہے۔
میں حسن نہیں، حسن کا صرف بہانہ ہوں
لفظوں نے مجھے چمکا دیا، میں تو فسانہ ہوں
سب سے زیادہ دلچسپ لمحہ وہ ہوتا ہے جب بچہ ضد کرتا ہے:
“ممی! چاند کو پکڑنا ہے!”
ارے بھئی! اگر میں ہاتھ آ جاتا تو سب سے پہلے نانی مجھے لوریوں میں لپیٹ کر الماری میں رکھ دیتیں، تاکہ ہر رات نکال کر سنا سکیں۔
اب ذرا حقیقت بھی سن لو۔
میں نہ چاند کا ٹکڑا ہوں، نہ چاند چہرہ، نہ کسی پری کا مسکن۔
میں بس آسمان کا ایک خاموش ساتھی ہوں، جسے تم نے خوابوں، تشبیہات اور محبتوں کا استعارہ بنا لیا ہے، اور شاید یہی
میری اصل خوب صورتی ہے۔
پیارے بچو!
نانی دادی کی کہانیاں دل میں سنبھال کر رکھنا، ممی پاپا کی باتوں میں چھپی محبت کو پہچاننا۔ مگر یاد رکھو، حسن صرف چہرے میں نہیں ہوتا سچائی، علم اور اچھے اخلاق میں بھی ہوتا ہے۔
مجھے دیکھ کر خواب ضرور دیکھو، مگر اپنے خواب پورے کرنے کے لیے محنت کرنا مت بھولنا۔
میں تو ہر رات آسمان پر آ جاتا ہوں،
مگر تمہیں اپنی جگہ خود بنانی ہے۔ چندا ماموں کی طرف سے اتنا ہی کہنا تھا:
“میں افسانہ بن گیا ہوں، حقیقت تم بنو۔”

No comments:
New comments are not allowed.