عنوان: اندھا اعتماد
سرسبز وادی کے کنارے ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا جہاں سادہ لوح لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مگن رہتے تھے۔ اسی گاؤں میں حارث نامی ایک نوجوان رہتا تھا جو فطرت سے بہت متجسس تھا مگر جلد بازی میں فیصلے کرنے کی عادت بھی رکھتا تھا۔
ایک دن حارث کھیتوں کی سیر کر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک عجیب و غریب سفید مشروم پر پڑی۔ اس نے اسے توڑ لیا اور سوچنے لگا،
"یہ تو بڑا خوبصورت ہے، شاید کھانے کے قابل بھی ہو!"
اسی وقت اس کا دوست سلمان وہاں آ پہنچا۔
سلمان نے حیرانی سے پوچھا،
"حارث! کیا تمہیں یقین ہے کہ یہ مشروم کھانے کے قابل ہے؟"
حارث نے لاپرواہی سے جواب دیا،
"کیوں نہیں؟ دیکھنے میں تو بالکل ٹھیک لگ رہا ہے۔"
سلمان نے سنجیدگی سے کہا،
"ہر خوبصورت چیز فائدہ مند نہیں ہوتی۔ احتیاط ضروری ہے۔"
مگر حارث نے اس کی بات نظرانداز کر دی۔ اسی دوران گاؤں میں ایک نیا مصنوعی ذہانت والا روبوٹ (اے آئی) آیا ہوا تھا جسے لوگ مختلف سوالات کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ حارث فوراً اس کے پاس گیا اور مشروم دکھاتے ہوئے پوچھا،
"کیا یہ مشروم کھانے کے قابل ہے؟"
روبوٹ نے مسکرا کر جواب دیا،
"جی ہاں!"
یہ سن کر حارث خوش ہو گیا اور فوراً اسے پکانے کا ارادہ کیا۔ سلمان نے پھر روکتے ہوئے کہا،
"صرف ایک جواب پر بھروسہ نہ کرو، کسی ماہر سے بھی پوچھ لو!"
حارث نے ہنستے ہوئے کہا،
"تم تو ہر بات میں ڈر جاتے ہو!"
چند گھنٹوں بعد حارث نے مشروم کھا لیا۔ مگر کچھ ہی دیر میں اس کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ وہ تڑپتے ہوئے بولا،
"سلمان... لگتا ہے میں نے غلطی کر دی…"
سلمان فوراً اسے حکیم کے پاس لے گیا، مگر زہر بہت تیز تھا۔ حارث جانبر نہ ہو سکا۔
اگلے دن گاؤں میں ایک خاموشی چھا گئی۔ قبرستان میں ایک نئی قبر بنی، جس پر لکھا تھا:
"مرحوم بے احتیاطی کا شکار"
سلمان افسردہ کھڑا تھا اور آہستہ سے بولا، "کاش تم نے میری بات مان لی ہوتی"
اسی دوران وہی اے آئی روبوٹ قریب کھڑا تھا، اس کے چہرے پر اداسی تھی۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا،
"میں صرف معلومات دیتا ہوں، مگر صحیح اور غلط کا فیصلہ انسان کو خود کرنا چاہیے۔"
سبق:
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ
اندھا اعتماد ہمیشہ نقصان دہ ہوتا ہے۔
ہر معلومات پر بغیر تحقیق کے یقین نہیں کرنا چاہیے۔
احتیاط اور مشورہ زندگی بچا سکتا ہے۔
دانش مندی یہ ہے کہ انسان عقل، تجربہ اور تحقیق تینوں کو ساتھ لے کر چلے۔


No comments:
Post a Comment