عنوان کہانی : وقت کا پہیہ
ایک دفعہ کا ذکر ہے کراچی کے علاقے کینٹ میں ایک شخص رہتا تھا۔ اس کا نام علی تھا۔ وہ ایک دفتر میں کام کرتا تھا۔ علی کی شادی کے دو سال بعد اس کے گھر میں خوشیوں کا سماں تھا۔ اس کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی۔ میاں بیوی دونوں اللہ کے اس انعام پر بے حد خوش تھے۔
علی دن رات ننھے حسان کے گرد گھومتا اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا۔ جب حسان نے پہلا قدم اٹھایا تو علی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ وقت گزرتا گیا، اور وہ دن بھی آیا جب حسان نے علی کو "ابو" کہہ کر پکارا۔ علی کے لیے یہ دنیا کی سب سے خوبصورت آواز تھی۔
علی کا معمول تھا کہ وہ شام کو حسان کو کھانا کھلاتا۔ کبھی حسان ضد کرتا، تو کبھی ہنستے ہوئے کھانے کے بہانے بناتا۔ علی بڑی محبت سے چمچ پکڑ کر اسے کھلاتا اور کہتا، "ایک نوالہ ابو کے لیے!"
سال گزرتے گئے، اور حسان جوان ہو گیا۔ علی کے چہرے پر بڑھاپے کی جھریاں نمودار ہونے لگیں، لیکن وہ ہمیشہ اپنے بیٹے کے لیے دعاگو رہتا۔ اب علی کے ہاتھ کانپنے لگے تھے، اور چلنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ ایک دن حسان نے علی کے ہاتھ سے چمچ لیتے ہوئے کہا، "ابو، اب میں آپ کو کھلاؤں گا، جیسے آپ نے بچپن میں مجھے کھلایا تھا۔"
حسان نے علی کو اسی محبت اور خیال سے کھانا کھلایا جیسے علی نے اسے بچپن میں کھلایا تھا۔ علی کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن یہ آنسو خوشی کے تھے کہ اس کا بیٹا اس کے بڑھاپے میں اس کا سہارا بن گیا تھا۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کا پہیہ گھومتا ہے۔ والدین ہمیں بچپن میں سنبھالتے ہیں، اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے والد بن کر بڑھاپے میں ان کی خدمت کریں۔ کیونکہ وقت ہمیں وہی لوٹاتا ہے جو ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں۔


No comments:
Post a Comment